دورِ حاضر کے جنگی تنازعات میں ماحولیات کا تحفظ: سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں تحقیقی جائزہ
DOI:
https://doi.org/10.52461/ulm-e-islmia.v33i01.4582Abstract
انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جنگ ہمیشہ انسانی معاشروں کا حصہ رہی ہے۔ کبھی یہ جنگیں زمین اور وسائل پر قبضے کے لیے لڑی گئیں، کبھی مذہبی اختلافات اور سیاسی طاقت کے حصول کے لیے۔ لیکن جدید دور کی جنگیں اپنی نوعیت اور اثرات کے لحاظ سے ماضی کی جنگوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہیں۔
ماضی میں جنگیں اگرچہ خون ریزی اور جانی نقصان کا باعث بنتی تھیں، لیکن ان کے اثرات محدود اور مقامی نوعیت کے ہوا کرتے تھے۔ آج کی جنگیں جدید ٹیکنالوجی، کیمیائی ہتھیاروں، ایٹمی اسلحے اور بھاری مشینری کے استعمال کی وجہ سے عالمی ماحول کو متاثر کرتی ہیں۔ ایک ملک میں ہونے والی جنگی سرگرمی کا دھواں اور آلودگی ہزاروں میل دور کے ممالک کے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ماحولیات کا تحفظ آج کے دور میں انسانی بقا سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ ماحولیاتی تباہی کے نتیجے میں پانی اور خوراک کے بحران جنم لیتے ہیں، جو بالآخر مزید جنگوں اور تنازعات کا سبب بنتے ہیں۔ گویا ماحولیات کا تحفظ صرف ایک سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی، سماجی اور اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔
Downloads
Published
Issue
Section
License
Copyright (c) 2026 Research Journal Ulūm-e-Islāmia

This work is licensed under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International License.

