دورِ حاضر کے جنگی تنازعات میں ماحولیات کا تحفظ: سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں تحقیقی جائزہ

Authors

  • ڈاکٹر صدام حسین لیکچرار ، ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک سٹڈیز ، یونیورسٹی آف بلوچستان، کوئٹہ۔
  • دانش محمود خان پی ایچ ڈی سکالرڈیپارٹمنٹ آف اسلامک سٹڈیز،قرطبہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈانفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیرہ اسماعیل خان۔
  • گل احمد پی ایچ ڈی سکالرڈیپارٹمنٹ آف اسلامک سٹڈیز، یونیورسٹی آف بلوچستان، کوئٹہ۔

DOI:

https://doi.org/10.52461/ulm-e-islmia.v33i01.4582

Abstract

انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جنگ ہمیشہ انسانی معاشروں کا حصہ رہی ہے۔ کبھی یہ جنگیں زمین اور وسائل پر قبضے کے لیے لڑی گئیں، کبھی مذہبی اختلافات اور سیاسی طاقت کے حصول کے لیے۔ لیکن جدید دور کی جنگیں اپنی نوعیت اور اثرات کے لحاظ سے ماضی کی جنگوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہیں۔

ماضی میں جنگیں اگرچہ خون ریزی اور جانی نقصان کا باعث بنتی تھیں، لیکن ان کے اثرات محدود اور مقامی نوعیت کے ہوا کرتے تھے۔ آج کی جنگیں جدید ٹیکنالوجی، کیمیائی ہتھیاروں، ایٹمی اسلحے اور بھاری مشینری کے استعمال کی وجہ سے عالمی ماحول کو متاثر کرتی ہیں۔ ایک ملک میں ہونے والی جنگی سرگرمی کا دھواں اور آلودگی ہزاروں میل دور کے ممالک کے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے۔

ماحولیات کا تحفظ آج کے دور میں انسانی بقا سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ ماحولیاتی تباہی کے نتیجے میں پانی اور خوراک کے بحران جنم لیتے ہیں، جو بالآخر مزید جنگوں اور تنازعات کا سبب بنتے ہیں۔ گویا ماحولیات کا تحفظ صرف ایک سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی، سماجی اور اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔

Downloads

Published

2026-03-23