مقالہ نگاران کے لیے ہدایات

مقالہ نگاران سےگزارش  ہے کہ مقالہ ارسال کرتے وقت درج ذیل نکات کوپیش نظر رکھا جائے ، بہ صورت دیگر ادارہ اشاعت سے قاصر ہوگا۔

مقالہ نگاروں کی آرا،تجزیوں اور استخراجی نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہیں اور اس سلسلے  میں "پیام " اور اس سے منسلک افراد اور ادارےہر قسم کی ذمہ داری سے بری    ہوں گے۔

1۔ "پیام" اقبالیات کا جریدہ ہے اس لیےاس میں بھیجا جانے والا مقالہ اساسی طورپر اسلامی ادب، تصوف اور اقبالیا ت سےمتعلق ہونا چاہیے۔

2۔ تحقیق کے مقاصد عام افراد تک پہنچانے کے لیے مقالے کی زبان سادہ ہونی چاہیے۔

3۔ مقالات کی حروف کاری  ایم ایس ورڈ  فارمیٹ میں ارسال کیجیے۔ایم ایس ورڈ میں  فونٹ (jameel noori nastaleeq)ہو ،متن کا فونٹ سائز  ۱۲ ,حواشی کا فونٹ سائز ۱۰ ۔


4۔ مقالہ بھیجنے سے پہلےبراہِ کرم تصدیق کر لیجیے:

    مقالہ حروف کاری کی اغلاط سے مبراہو۔

    ارسال کردہ مقالہ سرقے سے پاک ہونا چاہیے کیوں کہ اشاعت سے پہلے  TURNITINسافٹ وئیر میں  اس کی تصدیق و تنقیح کی جائے گی ۔ اگر مقالے میں پہلے سے مطبوعہ مواد سے مماثلت و     مشابہت  طے شدہ حد یعنی   19فی صد سے زیادہ  ہوئی تو مقالہ ناقابلِ اشاعت ہوگا۔  علاوہ ازیں مقالہ نگار  کے لیے ضروری  ہے کہ وہ اپنے مقالے کے ساتھ ہی سرقے سے پاک ہونے کا  ایک اقرار نامہ جمع کرائے ۔یہ اقرار نامہ "پیام " کی  ویب گاہ کے Download Menu  سے  حاصل کیا جاسکتا ہے۔

     "پیام" کو مقالہ ارسال کرنے کے بعد جب تک اس کے قابلِ اشاعت, مجوزہ تبدیلیوں یا ناقابلِ اشاعت کے بارے میں مجلسِ ادارت کی طرف سے اطلاع موصول نہ ہواُسے کسی دوسرےجریدے میں اشاعت کے لیے نہ بھیجا جائے۔

5۔ مقالہ نگار اپنا  نام، مقالے کا عنوان ، ملخص (Abstract)اور کلیدی الفاظ(Keywords)اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تحریر کرے   علاوہ ازیں مقالے کا ملخص ڈیڑھ سو سے دو سو الفاظ پر مشتمل ہو۔

6۔   مقالے کے اختتام پر  حواشی /حوالہ جات (references/endnotes) اور مآخذ (sources)  کی نشاندہی ضروری ہے۔

7۔ مقالے میں حوالہ جات و حواشی کے اندراج کا طریقہ درج ذیل ہے:

(الف) مصنف کا نام:کتاب کا عنوان، قوسین میں شہر کا نام، ناشر،سنِ اشاعت اور آخر میں  صفحہ نمبر۔

مثال:   تحسین فراقی:نقدِ اقبال حیاتِ اقبال میں ،(لاہور :بزمِ اقبال،۱۹۹۲ء) ، ص۰ ۵

     اگر کسی کتاب سے دویا تین مرتبہ حوالہ آئے تو  کتاب کا عنوان ، محولہ بالا اور صفحہ نمبر لکھنا مناسب  ہوگا۔اگر اسی کتاب کا دوسرا حوالہ فورا آئے تو  ایضاً  لکھنا کافی ہوگا۔صفحہ نمبر الگ ہونے کی صورت میں ایضا ًکے بعد صفحہ نمبر بھی درج کیجیے۔

ماخذات  میں درج بالا حوالہ یوں درج کیجیے:

فراقی،تحسین :نقدِ اقبال حیاتِ اقبال میں ،لاہور :بزمِ اقبال،۱۹۹۲ء

 (ب)   مقالے /  مضمون کا حوالۂ اندراج:       

 

عطش درّانی: ’’اردو رسم الخط کے مسائل (جدید تقاضے)‘‘، مشمولہ ’’اردو‘‘، کراچی، شمارہ ۱۔۴ (جنوری تا دسمبر۲۰۱۲ء)، ص۳۲

ماخذات میں اندراج:

درانی، عطش: ” اردو رسم الخط کے مسائل (جدید تقاضے)‘‘، مشمولہ ’’اردو‘‘، کراچی، شمارہ ۱۔۴ ، جنوری تا دسمبر۲۰۱۲ء

مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ کیجیے: https://www.chicagomanualofstyle.org/home.html

A